6 اشعار

آگ اور خوں کے کھیل سے اب تک بھرا نہ جی

Aag aur khoon ke khel se ab tak bhara na ji

آگ اور خوں کے کھیل سے اب تک بھرا نہ جیجنت کے دعویدار ہمارا جلا نہ جی

کردار مسخرے کا المیے میں مل گیاخود پر بھی ہنس کے دیکھ لیا خوش ہوا نہ جی

کیا جانور ملا تھا سدھایا نہیں گیاجینا بھی ایک کام تھا جس میں لگا نہ جی

مانگی تھی اک بخیل سے پورے بدن کی بھیکھآنکھیں دکھا کے رہ گیا کاسہ بھرا نہ جی

سب عشق روشنی کے خریدار اٹھ گئےبازار یوں گرا کہ جلایا گیا نہ جی

محفل میں واہ واہ کا وہ شور تھا کہ بسکمبخت شاعری کا مگر خوش ہوا نہ جی

— نعمان شوق