8 اشعار

معبدوں کی بھیڑ میں بجھتے یہ انسانی چراغ

Ma'badon ki bhiiD mein bujhte ye insaani charaagh

معبدوں کی بھیڑ میں بجھتے یہ انسانی چراغکاش خود میں ڈھونڈھ پاتے کوئی لافانی چراغ

سب دشاؤں سے امڈتی آندھیوں کا شور سنکم نہیں ہوگی ابھی تیری پریشانی چراغ

روشنی آنکھوں کی لے لے گا پری زادوں کا شہرحد تو یہ ہے اور پھیلاتے ہیں عریانی چراغ

اس نے آ کر لو بڑھا دی خواہشوں کی ایک شبمیں نے پہلی بار دیکھا ایسا لا ثانی چراغ

دیکھیے روحوں کو ان سے روشنی کتنی ملےرات دن جلتے ہیں جو مسجد میں جسمانی چراغ

بے قراری کا کوئی تو حل نکلنا چاہیےآ تجھے لپٹا لوں میرے دشمن جانی چراغ

جلتے جسموں کی قطاریں دور تک جاتی ہوئیںروشنی کے نام پر ہر سمت حیوانی چراغ

باغ و صحرا جس طرف جاؤں وہیں موجود تماک خدا کی سلطنت اور ایک انسانی چراغ

— نعمان شوق