6 اشعار

وہ جو سبھی خداؤں کا اک ہے خدا مرے عزیز

Woh jo sabhi khudaon ka ek hai Khuda mere azeez

وہ جو سبھی خداؤں کا اک ہے خدا مرے عزیزتم کو ملے تو بھیجنا اس کا پتہ مرے عزیز

اس نے خوش آمدید اگر تم کو نہیں کہا تو کیاسیکڑوں منتوں کے بعد در تو کھلا مرے عزیز

لہروں نے جھوم جھوم کر چھیڑا بطوں کے غول کونہر کے آس پاس تھی ایسی ہوا مرے عزیز

یہ تو بقا کی جنگ تھی اس کو تو جیتنا ہی تھاتم نے سپر ہی ڈال دی کیا یہ کیا مرے عزیز

ایک قدیم شام کو رقص کیا پہن کے میںہجر میں کام آ گئی یہ بھی قبا مرے عزیز

جائیے چھوٹ دی گئی آپ کو قتل عام کیآپ ہیں عرف عام میں راہنما مرے عزیز

— نعمان شوق