7 اشعار

آنکھوں کو آنسوؤں کی ضرورت ہے آج بھی

Aankhon ko aansuon ki zaroorat hai aaj bhi

آنکھوں کو آنسوؤں کی ضرورت ہے آج بھیجتنی بھی رہ گئی ہے محبت ہے آج بھی

سازش کی ایک شام بجھائے گئے تھے ہملیکن دیوں کو طاق سے نسبت ہے آج بھی

کچھ بھی سنبھال پائے نہ ہم تنگ دست لوگیہ خاکدان جسم ہی دولت ہے آج بھی

ایسے نمازیوں کا وضو بھی نہ کر قبولیا رب دلوں میں کتنی کدورت ہے آج بھی

لیکن تمہارے حسن کا نعم البدل کہاںدل میں تو بے حساب محبت ہے آج بھی

تعلیم دے رہا ہوں محبت کی جسم کومشکل یہ ہے کہ روح کی صحبت ہے آج بھی

انسان بن کے بیٹھا ہے ہر آدمی نمادنیا پہ اک خیال کی دہشت ہے آج بھی

— نعمان شوق