6 اشعار

آپ اپنی موت مر جانے دیا

Aap apni maut mar jaane diya

آپ اپنی موت مر جانے دیادل کو نظروں سے اتر جانے دیا

روک سکتا تھا میں جاتے وقت کواس کی مرضی تھی گزر جانے دیا

تاش کے پتوں سے اک دنیا رچیاور پھر سب کچھ بکھر جانے دیا

ساتھ میرا اور اک الجھن کا تھاجس نے اپنایا نہ گھر جانے دیا

راستہ بھولی ہوئی آواز نےچند شاموں کو سنور جانے دیا

ایک اندیشے کی آہٹ کیا سنیاپنے خوابوں کو بکھر جانے دیا

— نعمان شوق