5 اشعار

چمک جو اب کے بڑھی ہے سراب میں کچھ اور

Chamak jo ab ke badhi hai sarab mein kuchh aur

چمک جو اب کے بڑھی ہے سراب میں کچھ اوراضافہ ہونا ہے شاید عذاب میں کچھ اور

مزاج خوشبو کا میری سمجھ سے باہر ہےوہ ہر سنگار میں کچھ ہے گلاب میں کچھ اور

ہماری نسل محبت کی بات کیا جانےہمیں پڑھایا گیا ہے نصاب میں کچھ اور

جو زرد پتے ملے ہیں وہی غنیمت ہیںکہو ہوا سے کہ دیکھے نہ خواب میں کچھ اور

وہ میرے نام اک اک سانس کرنے والا تھالکھا ہوا ہے مگر انتساب میں کچھ اور

— نعمان شوق