7 اشعار

اتنا تیار تو مرنے کو نہیں ہے کوئی

Itna taiyar to marne ko nahin hai koi

اتنا تیار تو مرنے کو نہیں ہے کوئیناؤ ہے پار اترنے کو نہیں ہے کوئی

ہم سے ہی جشن ہے مقتل میں ذرا روک کے ہاتھپھر کہو گے تمہیں مرنے کو نہیں ہے کوئی

میری مٹی سے بہت کھیل چکی تیز ہوامیں یگانہ تھا بکھرنے کو نہیں ہے کوئی

تربیت ایسی غلاموں کو ملی ہے اس بارسب ہیں کرنے کو نہ کرنے کو نہیں ہے کوئی

دیر تک آئنہ دیتا ہے صدائیں مجھ میںتم نہ آؤ تو سنورنے کو نہیں ہے کوئی

برف بھی آج ہی گرنی تھی مری سانسوں میںآج تو آگ بھی بھرنے کو نہیں ہے کوئی

وعدۂ وصل پہ لب مہر لگاؤ مری جانیہ لگے تو کہ مکرنے کو نہیں ہے کوئی

— نعمان شوق