6 اشعار

آٹھوں پہر کا یہ ترا مزدور آ گیا

Aathon pehar ka ye tera mazdoor aa gaya

آٹھوں پہر کا یہ ترا مزدور آ گیاجنت کے دوار کھول مری حور آ گیا

پیغمبری کا دعویٰ نہیں عاشقی کا ہےپتھر نہ ماریے جو سر طور آ گیا

سب نے سنی جو رات کی للکار ڈر گئےسینہ تھا جس کا نور سے معمور آ گیا

آغوش اس کی ایسی پرانی شراب تھینشے میں خواہشوں کے بہت دور آ گیا

بستہ اٹھائیے کہ یہ مکتب نہیں ہے وہبستی بدل گئی نیا دستور آ گیا

کیا چاہئے غلام کو بس اک نظر کی بھیکشرطیں تمام آپ کی منظور آ گیا

— نعمان شوق