7 اشعار

بپھر اٹھا زباں سے جوں ہی نکلی بات بوسے کی

Baphir utha zabaan se joon hi nikli baat bose ki

بپھر اٹھا زباں سے جوں ہی نکلی بات بوسے کیادھر قلت محبت کی ادھر افراط بوسے کی

میں جس کی سلطنت میں کاسہ برداری پہ راضی تھااسی شہزادی نے جی بھر کے دی خیرات بوسے کی

معافی کا تصور ہی نہیں اس کی شریعت میںکل اس نے انتقاماً مجھ پہ کی برسات بوسے کی

زباں کا گرم بوسہ سیر جنت کی کرا لایازمیں والو تمہیں معلوم کیا اوقات بوسے کی

لبوں کے دونوں مصرعے لب سے موزوں کر کے دیکھے ہیںسمجھ میں یوں نہیں آئی ہیں معروضات بوسے کی

تو اے حسن ازل تجھ سے اجازت چاہتا ہوں میںاجازت چاہتے ہیں اب مرے جذبات بوسے کی

لبوں پر آخری اک مہر لگ جائے تو سو جاؤںوگرنہ ختم ہوگی ہی نہیں یہ بات بوسے کی

— نعمان شوق