6 اشعار

جز خدا اور کوئی حامی و ناصر مل جائے

Juz khuda aur koi haami o nasir mil jaaye

جز خدا اور کوئی حامی و ناصر مل جائےلطف آ جائے قسم سے جو وہ کافر مل جائے

اس کی مشکل سے میں واقف ہوں یہی ہے مشکلیہ بھی اب کہہ نہیں سکتا کہ بظاہر مل جائے

یہ وہی ہیں کہ جنہیں فخر ہے مسماری پردل نہیں تو کوئی مسجد کوئی مندر مل جائے

شہر گھبرائے ہوئے ہیں نئی ویرانی سےدشت آواز لگاتے ہیں مسافر مل جائے

لے کر آیا کہاں صدیوں کا سفر لعنت ہےکوہ نور آج بھی اس کا جسے نادر مل جائے

چین کی سانس نہ لے پائیں گے سو سال بھی ہمہاں بشرطے کوئی اس سے بڑا شاطر مل جائے

— نعمان شوق