8 اشعار

اب ایسی ویسی محبت کو کیا سنبھالوں میں

Ab aisi waisi mohabbat ko kya sambhalun main

اب ایسی ویسی محبت کو کیا سنبھالوں میںیہ خار و خس کا بدن پھونک ہی نہ ڈالوں میں

گر ایک دل سے نہیں بھرتا میرے یار کا دلتو اک بدن میں بھلا کتنے سانپ پالوں میں

نہ قبر کی ہے جگہ شہر میں نہ مسجد کیبتاؤ روح کے کانٹے کہاں نکالوں میں

صداقتوں پہ برا وقت آنے والا ہےاب اس کے کانپتے ہاتھوں سے آئینہ لوں میں

کئی زمانے مرا انتظار کرتے ہیںزمیں رکے تو کوئی راستا نکالوں میں

میں آنکھ کھول کے چلنے کی لت نہ چھوڑ سکانہیں تو ایک نہ اک روز خود کو پا لوں میں

ہزار زخم ملے ہیں مگر نہیں ملتاوہ ایک سنگ جسے آئنہ بنا لوں میں

سنو میں ہجر میں قائل نہیں ہوں رونے کاکہو تو جشن یہ اپنی طرح منا لوں میں

— نعمان شوق