6 اشعار

تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں

Tabah khud ko use la-zawaal karte hain

تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیںہمارے لوگ جنوں میں کمال کرتے ہیں

مگر یہ راز فقط تتلیاں سمجھتی ہیںچمکتے رنگ بھی جینا محال کرتے ہیں

کبھی کبھی تو درندوں پہ پیار آتا ہےتمام شہر کی یوں دیکھ بھال کرتے ہیں

یہ کیا کہ دل بھی دکھانے کوئی نہیں آتاچلو پرانے مراسم بحال کرتے ہیں

بلاؤ خواب نگر میں پھر اس ستارے کووہی کرو جو سبھی خوش خیال کرتے ہیں

کسی مذاق پہ کھل کر میں ہنس نہیں پاتاہنسی ہنسی میں وہ جینا محال کرتے ہیں

— نعمان شوق