7 اشعار

جانے کس امید پہ چھوڑ آئے تھے گھر بار لوگ

Jaane kis umeed pe chhod aaye the ghar baar log

جانے کس امید پہ چھوڑ آئے تھے گھر بار لوگنفرتوں کی شام یاد آئے پرانے یار لوگ

وہ تو کہئے آپ کی خوشبو نے پہچانا مجھےعطر کہہ کر جانے کیا کیا بیچتے عطار لوگ

پہلے مانگیں سربلندی کی دعائیں عشق میںپھر ہوس کی چاکری کرنے لگے بیمار لوگ

آپ کی سادہ دلی سے تنگ آ جاتا ہوں میںمیرے دل میں رہ چکے ہیں اس قدر ہشیار لوگ

اس جواں مردی کے صدقہ جائیے ہر بات پرسر کٹانے کے لیے رہتے ہیں اب تیار لوگ

پھیلتا ہی جا رہا ہے دن بہ دن صحرائے عشقخاک اڑاتے پھر رہے ہیں سب کے سب بے کار لوگ

بادشاہت ہو نہ ہو لیکن بھرم قائم رہےہر گھڑی گھیرے ہوئے بیٹھے رہیں دو چار لوگ

— نعمان شوق