6 اشعار

اب نیا عشق ہے اس کا مری تنہائی سے

Ab naya ishq hai us ka meri tanhaai se

اب نیا عشق ہے اس کا مری تنہائی سےیعنی میں ہار گیا اپنی ہی تنہائی سے

عین اسی لمحے میں دستک ہوئی دروازے پربندھ گئی تھی ذرا امید سی تنہائی سے

کچھ نئے پھول ہی بازار میں آئے ہوتےمیں بھی گلدان سجاتا نئی تنہائی سے

میں نے سوچا کہ خدا کتنا اکیلا ہوگااپنی تنہائی مٹائی بڑی تنہائی سے

گڑھتا رہتا ہوں یوں ہی وقت گزاری کے لئےرنگ سناٹے سے اور روشنی تنہائی سے

آخری بار وہ آیا تھا عیادت کو مگرخوب جھگڑے کئے دم توڑتی تنہائی سے

— نعمان شوق