5 اشعار

خالی ہوا ہی تھا کہ کھنکنے لگا بدن

Khaali hua hi tha ki khanakne laga badan

خالی ہوا ہی تھا کہ کھنکنے لگا بدنپھر ہجر کے نشے میں بہکنے لگا بدن

یہ عطر وتر کیا ہے کسی دل نشیں کے ساتھدو ایک پل رکے تھے مہکنے لگا بدن

شاخ وصال پر تھی نئی خواہشوں کی دھوپصیقل ہوا تو اور چمکنے لگا بدن

پتھر سمجھ کے اس کو گلے تو لگا لیااندر وہ آگ تھی کہ چھلکنے لگا بدن

اس مسئلے کا حل بھی تو ہوگا تمھارے پاسگر دل کے ساتھ ساتھ دھڑکنے لگا بدن

— نعمان شوق