6 اشعار

منصب سے محبت کی سبک دوش ہوا میں

Mansab se mohabbat ki subuk-dosh hua main

منصب سے محبت کی سبک دوش ہوا میںآواز لگاتے رہو خاموش ہوا میں

اس بار وہ شعلہ نئے انداز سے بھڑکااک آن میں سو بار سیہ پوش ہوا میں

ایمان کا فقدان تو پہلے کی طرح تھااک نعرۂ تکبیر سے پرجوش ہوا میں

کچھ نقص تھا توبہ میں اسی کی تو ہوا یہیاد آ گیا یک لخت فراموش ہوا میں

اس بار ترے جسم کی خوشبو ہی الگ تھیپتھر ہوا جاتا تھا ہم آغوش ہوا میں

اصرار تھا اعلان محبت پہ سبھی کواس درجہ بڑھا شور گراں گوش ہوا میں

— نعمان شوق