8 اشعار

اپنی آغوش فراغت میں پڑا رہتا ہوں

Apni aaghosh-e-faraghat mein pada rehta hoon

اپنی آغوش فراغت میں پڑا رہتا ہوںوقت اتنا ہے کہ حیرت میں پڑا رہتا ہوں

آ بتاتا ہوں تجھے کتنی حسیں ہے دنیامیں جہاں تیری محبت میں پڑا رہتا ہوں

تو مجھے جانتا ہے اور بہت جانتا ہےبس اسی نشۂ شہرت میں پڑا رہتا ہوں

تجھ سے ملنے کا بھی امکان زیاں لگتا ہےجانے کس عالم وحشت میں پڑا رہتا ہوں

جاری و ساری ہے بس ایک تمنا کا طوافرات دن حجرۂ حسرت میں پڑا رہتا ہوں

ہاتھ اپنے نہیں بڑھتے کسی خواہش کی طرفخاک اڑتی ہے تو خلوت میں پڑا رہتا ہوں

مجھ کو باندھا ہے کسی شام کی رقاصہ نےسرمئی حسن کی چاہت میں پڑا رہتا ہوں

جسم کی جاگتی دنیا میں اندھیرا کر کےمیں کہ بس روح کی دہشت میں پڑا رہتا ہوں

— نعمان شوق