6 اشعار

جب پھیر کر نگاہ ہر اپنا پرایا جائے

Jab pher kar nigah har apna paraya jaaye

جب پھیر کر نگاہ ہر اپنا پرایا جائےمشکل یہ ہے کہ ایسے میں کون آزمایا جائے

ہم آگ سے ڈرائے ہوئے لوگ ہیں ہمیںاک مہرباں ندی کے کنارے بسایا جائے

ہاں تم وفا پرست ہو بھوکا ہوس کا میںقسمیں نہ کھائی جائیں مجھے کچھ کھلایا جائے

بیمار سے تو پوچھیے اس کو ہے کس کا روگچارہ گری کے واسطے کس کو بلایا جائے

دونوں ہی اپنی کشتیاں ضد میں جلا چکےبہتر ہے ایسے عشق کو اب بھول جایا جائے

آنا نہیں ہے جس کو نہیں آئے گا کبھیآنکھیں بچھائی جائیں کہ اب دل جلایا جائے

— نعمان شوق