6 اشعار

سبھی کو مسکرا کر مار ڈالا

Sabhi ko muskura kar maar daala

سبھی کو مسکرا کر مار ڈالابچے ہم سو ڈرا کر مار ڈالا

یہ قبرستان اس کی ملکیت ہےنیا نقشہ دکھا کر مار ڈالا

محبت میں فنا ہونا نہیں تھاکسی نے ورغلا کر مار ڈالا

ان آنکھوں کا بڑا سودا تھا ہم کوہمیں آنکھیں دکھا کر مار ڈالا

لطیفے خوب خدمت گار کے تھےہمیں تو کل ہنسا کر مار ڈالا

بس اک مجنوں ہی تھا مد مقابلاسے صحرا میں جا کر مار ڈالا

— نعمان شوق