5 اشعار

اپنی چاہت کو مرے دکھ کے برابر کر دے

Apni chahat ko mere dukh ke barabar kar de

اپنی چاہت کو مرے دکھ کے برابر کر دےیا مجھے دیکھ لے اس طرح کہ پتھر کر دے

یہ سمٹتی ہوئی دنیا یے بکھرتے ہوئے لوگانتہا کوئی تو ہر شے کی مقرر کر دے

کس کو دیکھوں کہ ترے نام کا نشہ اترےکس کو چاہوں جو ترے سحر کو کمتر کر دے

موسم وجد میں جا کر میں کہاں رقص کروںاپنی دنیا مری وحشت کے برابر کر دے

ایک کھٹکا مجھے رہتا ہے محبت میں صدااس کا کیا جب جسے چاہے مرا ہم سر کر دے

— نعمان شوق