7 اشعار

بدن بدن کی ضرورت سے مار ڈالا گیا

Badan badan ki zarurat se maar Daala gaya

بدن بدن کی ضرورت سے مار ڈالا گیاجو بچ رہا وہ محبت سے مار ڈالا گیا

نہ تتلیوں سے تھا خطرہ نہ جگنوؤں سے خوفہمیں تو خیر شرارت سے مار ڈالا گیا

جو گرد آنے نہ دیتے تھے اپنے کپڑوں تکانہیں بھی کیسی نفاست سے مار ڈالا گیا

خدائے حسن خرابی اسی نظر میں تھیاک آئنہ مری حیرت سے مار ڈالا گیا

تمام زور خطابت خلاف تھا اپنےعدو کے علم کی طاقت سے مار ڈالا گیا

اک اور شخص مرے دوستوں کے اندر تھااسے تھپک کے محبت سے مار ڈالا گیا

کئی گواہ بھی کم آپ کو سزا کے لیےہمیں تو ایک شہادت سے مار ڈالا گیا

— نعمان شوق