8 اشعار

شاہ زماں نے بھیج دیا ریشمی لباس

Shah zamaan ne bhej diya reshmi libas

شاہ زماں نے بھیج دیا ریشمی لباسلیکن فقیر کا ہے وہی سرمدی لباس

ہے جسم کے سوا بھی خدا کی دکان میںعریانیوں کو ڈھانپنے والا کوئی لباس

خوش ہونے کا یہ سوانگ بہت دیر ہو چکاصندوق سے نکالو مرا ماتمی لباس

سوچا تمہیں گلے سے لگایا پہن لیاتم ہو کبھی خیال کبھی تن کبھی لباس

اس بار روشنی سے ہے جنگ آر پار کیشاموں سے جس نے چھین لیے سرمئی لباس

جاری رہے گا تا بہ ابد یہ طواف حسنآنکھوں میں پھر رہا ہے ترا موسمی لباس

تقریر سن کے وہ بھی بجاتے ہیں تالیاںپہنا دیا گیا ہے جنہیں آخری لباس

اس روز جھوم جھوم کے ناچے ہیں ضد میں وہجس دن بدن پہ دیکھ لیا ماتمی لباس

— نعمان شوق