7 اشعار

جو تیرے ساتھ ذرا دیر تک رکا ہوتا

Jo tere saath zara der tak ruka hota

جو تیرے ساتھ ذرا دیر تک رکا ہوتامیں اک خیال سے آگے نہیں گیا ہوتا

فقیر لوگ رہے اپنے اپنے حال میں مستنہیں تو شہر کا نقشہ بدل چکا ہوتا

میں اپنے دل سے مخاطب تھا تاجروں سے نہیںکہ ناپ تول کے سب کچھ کہا سنا ہوتا

وہ بادشاہ محبت میں ہار بھی جاتےتو سلطنت کا بڑا کام ہو گیا ہوتا

کوئی تو جاگ گیا ہوتا باغ جلنے تکمری صدا سے کسی کا بھلا ہوا ہوتا

ہم ایسے لوگ تو اکتا گئے تھے عشق سے بھیوہ بے وفا نہیں ہوتا تو جانے کیا ہوتا

بھلا ہوا کہ جدا ہو گیا وہ جادوگرمیں بند آنکھیں لئے ساتھ چل رہا ہوتا

— نعمان شوق