6 اشعار

بدن چراغ نہیں ہیں محبتیں اپنی

Badan charaagh nahin hain mohabbatein apni

بدن چراغ نہیں ہیں محبتیں اپنیمگر یہ لو کو بڑھاتی ضرورتیں اپنی

تمام حق کے طرفدار چاروں خانے چتکوئی سنبھال نہ پایا صداقتیں اپنی

بدل نہ لیں کہیں رستہ یہ آگ کی لپٹیںہمیں ہی راکھ نہ کر دیں یہ نفرتیں اپنی

اب اس سے روبرو ہونے میں کچھ نہیں رکھابلا کے نقش بناتی ہیں وحشتیں اپنی

سمیٹ اپنے ستاروں کو آسماں والےبجھا کے چھوڑ گئیں جن کو حسرتیں اپنی

کدھر سے آتی ہے جانے یہ خواب ناک صداتو کم نہ ہوں گی کبھی کیا مسافتیں اپنی

— نعمان شوق