6 اشعار

باہر نکل کے دیکھیے طوفان کم ہوا

Bahar nikal ke dekhiye toofan kam hua

باہر نکل کے دیکھیے طوفان کم ہوامت روئیے جناب کا نقصان کم ہوا

سادہ دلی میں جان گنوانی پڑی ہمیںسب جھوٹ کہہ رہے تھے کہ ہیجان کم ہوا

ہم اشتہار والے نہیں شعر والے تھےمحنت زیادہ کی گئی اعلان کم ہوا

ہم تو تمہارے ہجر میں مر ہی گئے تھے یاروارفتگی نہیں تھی سو نقصان کم ہوا

تیرا پتہ سنبھال کے رکھا یہ چال تھیمیں اپنی جستجو میں پریشان کم ہوا

صحت کا غسل کر کے کیا عشق زیب تنیعنی بدن کی موت پہ ایمان کم ہوا

— نعمان شوق