6 اشعار

تھا عشق یا میں واقعی بیمار پڑا تھا

Tha ishq ya main waqayi beemar pada tha

تھا عشق یا میں واقعی بیمار پڑا تھااب یاد نہیں کون سا آزار پڑا تھا

صدیاں مجھے اس گھر کی صفائی میں لگی ہیںبے کار خداؤں کا اک انبار پڑا تھا

اک بار ذرا بگڑی تھی فرعون کی حالتاور غم میں جہاں جو بھی تھا بیمار پڑا تھا

مشکل تھا بہت ہم سے خریدار کا ملنایوں راہ میں بازار کا بازار پڑا تھا

پر ہم نے قسم کھائی تھی عبرت نہیں لینیاخبار کے اندر بھی اک اخبار پڑا تھا

وہ خوش بدن اک دن بھی عیادت کو نہ آیامیں روح میں اپنی کہیں بیمار پڑا تھا

— نعمان شوق