7 اشعار

عشق تھا واقعہ بنا ڈالا

Ishq tha waqiya bana dala

عشق تھا واقعہ بنا ڈالاآپ نے کیا سے کیا بنا ڈالا

آسماں کو نہ چھو سکے تو کیاایک زینہ نیا بنا ڈالا

جن کا دعویٰ ہے پانیوں پہ ہنوزہر طرف کربلا بنا ڈالا

آدمی آدمی تو ہو پہلےآپ نے تو خدا بنا ڈالا

ہجر میں کفر یہ ہوا سرزدتم گئے دوسرا بنا ڈالا

اس سے جی بھر کے بات کی کل راتشکل تھا وہ صدا بنا ڈالا

ہر نئے غم پہ مسکراتا ہوںاک تماشے نے کیا بنا ڈالا

— نعمان شوق