6 اشعار

اک جنوں اپنا لبادہ ہو گیا

Ik junoon apna libada ho gaya

اک جنوں اپنا لبادہ ہو گیاآسماں سا دل بھی سادہ ہو گیا

سہو سجدہ کی بھی گنجائش نہیںاک تعلق بے ارادہ ہو گیا

روح تھی اس کی سدا سے بے نیازجسم سے ہی استفادہ ہو گیا

اپنا رشتہ جس سے ہو سکتا نہیںوصل ایسا خانوادہ ہو گیا

بوند بھر تھا چاہتوں کا سلسلہآنکھ میں پانی زیادہ ہو گیا

راہ روکی ہے اجالے نے مریبن کے دیوار ایستادہ ہو گیا

— نعمان شوق