7 اشعار

برسوں پرانے زخم کو بے کار کر دیا

Barson purane zakhm ko bekar kar diya

برسوں پرانے زخم کو بے کار کر دیاہم نے ترا جواب بھی تیار کر دیا

طوق بدن اتار کے پھینکا زمیں سے دوردنیا کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا

خود ہی دکھائے خواب بھی توسیع شہر کےجنگل کو خود ہی چیخ کے ہشیار کر دیا

جمہوریت کے بیچ پھنسی اقلیت تھا دلموقعہ جسے جدھر سے ملا وار کر دیا

آئے تھے کچھ ستارے تری روشنی کے ساتھہم اپنے ہی نشے میں تھے انکار کر دیا

وہ نیند تھی کہ موت مجھے کچھ پتہ نہیںگہرے گھنے سکوت نے بیدار کر دیا

ہم آئینے کے سامنے آئے تو رو پڑےاس نے سجا سنوار کے بے کار کر دیا

— نعمان شوق