6 اشعار

دل بھی احساسات بھی جذبات بھی

Dil bhi ehsasat bhi jazbat bhi

دل بھی احساسات بھی جذبات بھیکم نہیں ہیں ہم پہ الزامات بھی

روک دو یہ روشنی کی تیز دھارمیری مٹی میں گندھی ہے رات بھی

مقتدی میرے سبھی میں ہوں امامہیں کمال عشق کے درجات بھی

چاند اپنے آپ کو کہتے ہو تمآؤ دیکھیں ہو گئی ہے رات بھی

دور تک ہم بھیگتے چلتے رہےدیر تک ہوتی رہی برسات بھی

ساتھ چلنے میں پریشانی بھی ہےہاتھ میں تھامے ہوئے ہیں ہاتھ بھی

— نعمان شوق