6 اشعار

ایک آیت پڑھ کے اپنے آپ پر دم کر دیا

Ek aayat padh ke apne aap par dam kar diya

ایک آیت پڑھ کے اپنے آپ پر دم کر دیاہم نے ہر چہرے کی جانب دیکھنا کم کر دیا

احتراماً اس کے قدموں میں جھکا نادان میںاس نے میرا قد ہمیشہ کے لیے کم کر دیا

مجھ سے اوروں کی جدائی بھی سہی جاتی نہیںمیں نے دو بھیگی ہوئی پلکوں کو باہم کر دیا

کھل رہے ہیں مجھ میں دنیا کے سبھی نایاب پھولاتنی سرکش خاک کو کس ابر نے نم کر دیا

کر رہے تھے عشق میں سود و زیاں کا وہ حسابان کے تخمینے نے میرا درد بھی کم کر دیا

ساتھ جتنی دیر رہ لوں کون سا کھلتا ہے وہاس نے دانستہ مرے شعروں کو مبہم کر دیا

— نعمان شوق