4 اشعار

بے موسم کی بارش میں دنیا جل تھل ہو جائے

Be mausam ki barish mein duniya jal thal ho jaye

بے موسم کی بارش میں دنیا جل تھل ہو جائےاپنا دکھ کہہ دوں تو پتھر بھی پاگل ہو جائے

میری رگوں میں پھیل رہا ہے محرومی کا زہرجس دریا پر جان لٹاؤں وہ بادل ہو جائے

اپنے لیے تو ایک سے ہیں سب خطے دنیا کےجس دھرتی پر پاؤں رکھیں ہم وہ دلدل ہو جائے

ہم کو ہے اوقات مہذب لوگوں کی معلومایک درندہ جب چاہے بستی جنگل ہو جائے

— نعمان شوق