6 اشعار

چشمۂ شیریں الگ ساگر الگ

Chashma-e-shirin alag saagar alag

چشمۂ شیریں الگ ساگر الگآؤ بیٹھیں بھیڑ سے ہٹ کر الگ

رونمائی کے لئے آ جاؤ تممیری آنکھوں میں ہے اک منظر الگ

ہم کو سجدے سے کہاں انکار ہےپر یہاں تو دھڑ الگ ہے سر الگ

چہرہ دل کا آئنہ ہے کیا کہاآدمی اندر الگ باہر الگ

وہ بھی تھا اس خوش نما تصویر میںہو گئے سب رنگ ایک اک کر الگ

گھورتے ہیں نا مکمل شعر ادھراور ادھر ہیں آپ بن ٹھن کر الگ

— نعمان شوق