7 اشعار

بھرے ہوئے ہیں ابھی روشنی کی دولت سے

Bhare hue hain abhi roshni ki daulat se

بھرے ہوئے ہیں ابھی روشنی کی دولت سےدیئے جلائیں گے ہم بھی مگر ضرورت سے

بہت سے خواب حقیقت میں دل نواز نہ تھےبہت سے لوگ چلے آ رہے ہیں جنت سے

اسی نگاہ سے پھر تم نے مجھ کو دیکھ لیابدن اتار کر آیا تھا کتنی محنت سے

یہی کہ تو بڑا خوش حال ہے خداونداذرا پتہ نہیں چلتا جہاں کی حالت سے

چمکتے چاند ستاروں کو دفن کر آئےبجھے چراغ کو رکھا گیا حفاظت سے

بدن کے طاق میں جلتے ہیں بس بدن کے دیپیہ روشنی ہے بہت کم مری ضرورت سے

پھر اس مذاق کو جمہوریت کا نام دیاہمیں ڈرانے لگے وہ ہماری طاقت سے

— نعمان شوق