7 اشعار

دن بہ دن گھٹتی ہوئی عمر پہ نازل ہو جائے

Din ba din ghatti hui umar pe nazil ho jaye

دن بہ دن گھٹتی ہوئی عمر پہ نازل ہو جائےاک بدن اور مری روح کو حاصل ہو جائے

مورچے کھولتا رہتا ہوں سمندر کے خلافجس کو مٹنا ہے وہ آئے مرا ساحل ہو جائے

کھیل ہی کھیل میں چھو لوں میں کنارا اپناایسے سوؤں کہ جگانا مجھے مشکل ہو جائے

لگ کے بیمار کے سینے سے نہ رونا ایسےزندگانی کی طرح موت بھی مشکل ہو جائے

رکھ رہے ہیں ترے پتھر مرے زخموں کا حساباب یہ مجمع بھی مرے کشف کا قائل ہو جائے

اس قدر دیر نہ کرنا کہ یہ آسیب نگررات کا روپ لے اور جسم میں داخل ہو جائے

جنگ اپنوں سے ہے تو دل کو کنارے کر لوںراستے میں یہی تلوار نہ حائل ہو جائے

— نعمان شوق