7 اشعار

چاہے بے نور ہوں آنکھوں سے بھی خوش ہوتے ہیں

Chaahe be-noor hon aankhon se bhi khush hote hain

چاہے بے نور ہوں آنکھوں سے بھی خوش ہوتے ہیںہم تو بوجہل کے فتووں سے بھی خوش ہوتے ہیں

یہ سجاوٹ کے جو بازار ہیں بے کار نہیںہوں گے کچھ لوگ جو چہروں سے بھی خوش ہوتے ہیں

ہر نیا لمحہ تعاقب میں ہے تعبیروں کیہم وہ جاگے ہیں جو خوابوں سے بھی خوش ہوتے ہیں

ایسے ہی پھوٹ کے روئے گا کوئی ان کے لئےلوگ مجبور کے نالوں سے بھی خوش ہوتے ہیں

یہ جو ہر روز کا مرنا ہے مصیبت ہے یہییار ہم جیسے تو زخموں سے بھی خوش ہوتے ہیں

کوئی ہے جو تری اوقات بتاتا ہے تجھےاب تو ہم آئنے والوں سے بھی خوش ہوتے ہیں

مشک والے بھی چلے آتے ہیں بھولے بھٹکےیہ جو صوفی ہیں غزالوں سے بھی خوش ہوتے ہیں

— نعمان شوق