6 اشعار

جسم مصلوب کا یک لخت نیا ہو جانا

Jism masloob ka yak lakht naya ho jaana

جسم مصلوب کا یک لخت نیا ہو جاناسامنے آنا ترا جشن بپا ہو جانا

نصف ایمان پہ ناچیز ٹکا ہے کب سےمان لیتا نہیں بندے کا خدا ہو جانا

دیر تک اس نے لگائے رکھا سینے سے مجھےجس سے سیکھا ہے درختوں نے ہرا ہو جانا

دشمن جاں ہو اگر ایسے خداؤں کا ہجومہم نے سیکھا نہیں راضی بہ رضا ہو جانا

آج سر کاٹ کے جنت نہیں مانگی تم نےہے بری بات نمازوں کا قضا ہو جانا

ایسے منصوبے کو ناکام کریں گے ہم لوگاس میں شامل ہے اگر تیرا خدا ہو جانا

— نعمان شوق