5 اشعار

سیاہی میں تو سایہ ڈوبتا ہے

Siyahi mein to saaya doobta hai

سیاہی میں تو سایہ ڈوبتا ہےکہا کس نے ستارہ ڈوبتا ہے

زمانے سے الگ اک چاند دیکھاخیالوں میں ابھرتا ڈوبتا ہے

یہ کہہ کر خود کو سمجھاتا رہا ہوںکہ سورج بھی تو تنہا ڈوبتا ہے

یہ سارے پھول دریا میں گرا دونہیں تو اب شکارا ڈوبتا ہے

چلا آتا ہے میناروں پہ پانیابابیلو بسیرا ڈوبتا ہے

— نعمان شوق