6 اشعار

مجھ عشق کو ہوس بھری نظریں عطا کرے

Mujh ishq ko hawas bhari nazrein ataa kare

مجھ عشق کو ہوس بھری نظریں عطا کرےانسان سے یہ ہو نہیں سکتا خدا کرے

جب تالیوں کا زور ضمانت ہو جیت کیکرتا وہی ہے شاہ جو خواجہ سرا کرے

ان مسخروں کو آپ تو آتی نہیں ہنسیمرتا ہے کوئی ان کی بلا سے مرا کرے

بندہ بھی تو بنا ہے کسی کام کے لئےیہ کیا کہ اب تو جو بھی کرے بس خدا کرے

خوش ہو کے اپنا کون سا نقصان ہو گیاروئے سخن کسی کی طرف وہ کیا کرے

دو اک گناہ بھی کرے یہ آدمی کہ بستا عمر مغفرت کے لئے ہی دعا کرے

— نعمان شوق