6 اشعار

دشت میں رات بناتے ہوئے ڈرتا ہوں میں

Dasht mein raat banate hue darta hun main

دشت میں رات بناتے ہوئے ڈرتا ہوں میںاپنی آواز بجھاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں

تنگئ وقت کا ماتم نہیں رکنے والا والاعرصۂ ہجر بڑھاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں میں

دشمنوں سے وہی کرتا ہے حفاظت میریجس کو آواز لگاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں

راکھ کے ڈھیر پہ یہ ناچتے گاتے ہوئے لوگاب یہاں پھول کھلاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں

جیت جائیں گے یہاں شور مچانے والےگنگناتے ہوئے گاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں

سب جہانگیر نیاموں سے نکل آئیں گےاب تو زنجیر ہلاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں

— نعمان شوق