9 اشعار

دیوار ہے دریچہ نہ در آئے روشنی

Deewar hai daricha na dar aaye roshni

دیوار ہے دریچہ نہ در آئے روشنیتقریر خوب جیت پہ فرمائے روشنی

پرچم نہیں یہ میرا علم ہے حسین کاجس کو شہید ہونا ہے لہرائے روشنی

نقشے پہ کوئی ملک ہمارا نہیں بچااب ہم وہیں ملیں گے جہاں آئے روشنی

کل راستے میں اس پہ اچانک نظر پڑیبے اختیار آنکھوں میں بھر لائے روشنی

بجلی گری تو دوڑ پڑے بے قرار لوگتقدیر میں نہیں تھا کہ مل پائے روشنی

ہر شاخ پر کھلے ہوئے عریانیوں کے پھولیہ شرط بھی ہے خوب کہ شرمائے روشنی

دانشوروں کو کام ملا ہے نیا نیاشمعیں بجھائیں اور کریں ہائے روشنی

پیاسے کو بھی تو پانی نظر آنا چاہئےاس بار چھائے ابر تو برسائے روشنی

یہ جو صفائی ہے نا اندھیرے کی دین ہےبس انتظار کیجیے آ جائے روشنی

— نعمان شوق