5 اشعار

قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئے

Qa'ide bazaar ke is baar ulte ho gaye

قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئےآپ تو آئے نہیں پر پھول مہنگے ہو گئے

ایک دن دونوں نے اپنی ہار مانی ایک ساتھایک دن جس سے جھگڑتے تھے اسی کے ہو گئے

مجھ کو اس حسن نظر کی داد ملنی چاہئےپہلے سے اچھے تھے جو کچھ اور اچھے ہو گئے

مدتوں سے ہم نے کوئی خواب بھی دیکھا نہیںمدتوں اک شخص کو جی بھر کے دیکھے ہو گئے

بس ترے آنے کی اک افواہ کا ایسا اثرکیسے کیسے لوگ تھے بیمار اچھے ہو گئے

— نعمان شوق