6 اشعار

دل اس کی دسترس سے دور ہے کیا

Dil us ki dastaras se door hai kya

دل اس کی دسترس سے دور ہے کیایہ مجرم آج بھی مفرور ہے کیا

یہ دنیا بوجھ بنتی جا رہی ہےترا عاشق کوئی مزدور ہے کیا

میں اپنے سچ پہ شرمندہ نہیں ہوںتمہیں یہ آئنہ منظور ہے کیا

محبت والے ہیں کتنے زمیں پراکیلا چاند ہی بے نور ہے کیا

میں اپنی طرح سے دل ہارتا ہوںمحبت کا کوئی منشور ہے کیا

ڈراتے ہو خدا کا نام لے کریہ بندہ اس قدر مجبور ہے کیا

— نعمان شوق