5 اشعار

جنوں والے بالآخر شاہکاروں سے نکل آئے

Junoon wale bilakhir shahkaaron se nikal aaye

جنوں والے بالآخر شاہکاروں سے نکل آئےسبھی شاہ جہاں اپنے مزاروں سے نکل آئے

ہمیں سیلاب کا ڈر بستیوں سے کھینچ لایا تھاکئی آسیب شہروں کے کناروں سے نکل آئے

میں کل رات اپنی ویرانی پہ رویا اس قدر رویاسبھی کھوئے ہوئے چہرے ستاروں سے نکل آئے

نصابوں میں ہوئی ترمیم رنگوں پر شباب آیانئے معنی پرانے اشتہاروں سے نکل آئے

کسی کے ہاتھ آزادی کا پروانہ نہیں آیابچا کر جان ہم تیمارداروں سے نکل آئے

— نعمان شوق