7 اشعار

کیوں ادھر ہی نکل پڑا جائے

Kyun idhar hi nikal pada jaaye

کیوں ادھر ہی نکل پڑا جائےجس طرف لے کے راستہ جائے

آ چکے باغ میں تماشائیبس بہت ہو چکا کھلا جائے

شعر تو روز سنتے رہتے ہیںآئیے حسن کو پڑھا جائے

تخلیہ چاہتا ہے عشق جنابآج خاموشی کو سنا جائے

موت کی ایک شکل ہے یہ بھینیند کو ٹالتے رہا جائے

کل تھا وقت آپ کے سوالوں کااب مجھے پوچھنے دیا جائے

لفظ بے کار کی مصیبت ہیںکیا لکھا جائے کیا پڑھا جائے

— نعمان شوق