6 اشعار

ڈوبنے والا ہی تھا ساحل بر آمد کر لیا

Doobne wala hi tha sahil bar'amad kar liya

ڈوبنے والا ہی تھا ساحل بر آمد کر لیااس نے بالآخر ہمارا دل بر آمد کر لیا

وہ بدن کی بھیک دینے پر ہوا راضی تو میںاپنی خوشحالی میں اک سائل بر آمد کر لیا

ہم تلاش حق میں نکلے اور شرمندہ ہوئےاس نے آئینے سے بھی باطل بر آمد کر لیا

عشق کے منکر تھے ہم تو یہ جہاں ناپید تھاجب ہوئے اثبات پر مائل بر آمد کر لیا

آگ کے دریا میں کر کے رقص جب ہم تھک گئےراکھ کے اک ڈھیر سے ساحل بر آمد کر لیا

کون کہتا ہے کہ ہم معصوم بزدل لوگ ہیںاس نے تو ہر گھر سے اک قاتل بر آمد کر لیا

— نعمان شوق