9 اشعار

سارے چقماق بدن آئے تھا تیاری سے

Saare chaqmaq badan aaye tha taiyari se

سارے چقماق بدن آئے تھا تیاری سےروشنی خوب ہوئی رات کی چنگاری سے

ان درختوں کی اداسی پہ ترس آتا ہےلکڑیاں رنگ نہ دوں آگ کی پچکاری سے

کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتا مسیحائی کاہم بھی آزاد ہوئے جاتے ہیں بیماری سے

منہ لگایا ہی نہیں اسلحہ سازوں کو کبھیمیں نے دنیا کو ہرایا بھی تو دل داری سے

عشق بھی لوگ نمائش کے لیے کرتے ہیںکیا نمازیں بھی پڑھی جاتی ہیں عیاری سے

سارا بازار چلا آیا ہے گھر میں پھر بھیباز آتے ہیں کہاں لوگ خریداری سے

آخری نیند سے پہلے کہاں سمجھیں گے ہمخواب سے ڈرنا ضروری ہے کہ بیداری سے

حسن جس چھاؤں میں بیٹھا تھا وہ قاتل تو نہ تھیجل گئے جسم نگاہوں کی شجرکاری سے

کم سے کم میں تو مرید ان کا نہیں ہو سکتاجو پس رقص جنوں بیٹھے ہیں ہشیاری سے

— نعمان شوق