5 اشعار

میری آنکھوں میں دمکتا ہوا چہرہ اس کا

Meri aankhon mein damakta hua chehra us ka

میری آنکھوں میں دمکتا ہوا چہرہ اس کاکب سے جزدان میں رکھا ہے صحیفہ اس کا

وہ پرندہ جسے جنگل کی ہوا بھی نہ لگیلوگ ہر شاخ سے دکھلائیں گے رشتہ اس کا

صاف بچ جاتے مرے ہاتھ قلم ہونے سےکاش میں نے بھی لکھا ہوتا قصیدہ اس کا

کون ہے جو اسے کہتا ہے اندھیروں کا نقیبشام ہوتی ہے تو کھل اٹھتا ہے چہرہ اس کا

ہنس رہا ہوگا کسی شاخ کے پیچھے سورجپیڑ سے چھین رہا ہے کوئی سایہ اس کا

— نعمان شوق