5 اشعار

ایک پل میں ٹوٹنے کو ہے سمندر کا سکوت

Ek pal mein tootne ko hai samundar ka sukoot

ایک پل میں ٹوٹنے کو ہے سمندر کا سکوتیہ اشارہ کر رہا ہے ریت کے گھر کا سکوت

ہم بہت پچھتائے آوازوں سے رشتہ جوڑ کرشور اک لمحے کا تھا اور زندگی بھر کا سکوت

ہو سکے تو کیجئے اب زلزلے کا اہتمامورنہ دستک سے نہیں ٹوٹے گا اس گھر کا سکوت

کوئی تو آواز ابھرے دل کے ویرانے سے ابچاٹتا جاتا ہے مجھ کو میرے اندر کا سکوت

ایک لمحے میں شفق کے رنگ کو کجلا گئیاس کی پل بھر کی اداسی اس کا پل بھر کا سکوت

— نعمان شوق