7 اشعار

گلاب چہرہ شراب راتیں

Gulab chehra sharaab raatein

گلاب چہرہ شراب راتیںتری عطا ہیں یہ خواب راتیں

کہاں یہ بجھتے چراغ کی لوکہاں یہ عزت مآب راتیں

نکالیے وقت بندہ پرورسنواریے کچھ خراب راتیں

نیا نشہ ہے کھلی سڑک پرنہا کے نکلیں عذاب راتیں

چلو بدن پر لپیٹتے ہیںبرس رہی ماہتاب راتیں

سیاہ کاروں نے پھر دعا کیخدا سنوارے خراب راتیں

یہ باغ ہے منتظر تمہاراکھلی ہوئی ہیں گلاب راتیں

— نعمان شوق